19053- من توضأ فأبلغ الوضوء، ثم قام إلى الصلاة فأتم ركوعها وسجودها والقراءة فيها، قالت: حفظك الله كما حفظتني، ثم أصعد بها إلى السماء ولها ضوء ونور، ففتحت لها أبواب السماء حتى ينتهى بها إلى الله فتشفع لصاحبها، وإذا لم يتم ركوعها ولا سجودها ولا القراءة فيها، قالت: ضيعك الله كما ضيعتني، ثم أصعد بها إلى السماء وعليها ظلمة فغلقت دونها أبواب السماء ثم تلف كما يلف الثوب الخلق فيضرب بها وجه صاحبها. "ص عن عبادة بن الصامت".
19053 ۔۔۔ جس نے وضو کیا اور اعضائے وضو کیا اور اعضائے وضو کو اچھی طرح دھویا (اور مکمل سر کا مسح کیا) پھر نماز کے لیے کھڑا ہوگیا ان کے رکوع و سجود کو مکمل کیا اور قراءت بھی مکمل کی تو وہ نماز کہتی ہے : اللہ بھی یونہی حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی ۔ پھر وہ نماز آسمان کی طرف چڑھتی ہے اس طرح کہ وہ مکمل نور اور روشن چمکدار ہوتی ہے۔ اس کے لیے آسمان کے سب دروازے کھول دیئے جاتے ہیں حتی کہ وہ اللہ پاک کے پاس جا کر اپنے نمازی کے لیے سفارش کرتی ہے۔ اور جب نماز رکوع و سجدوں کو پورا نہیں کرتا وہ قرات بھی ٹھیک ادا نہیں کرتا تو وہ نماز اس کو یہ بددعا دیتی ہے : اللہ تجھے بھی یونہی ضائع کر دے جس طرح تو نے مجھے ضائع کیا ہے۔ پھر وہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے تو تاریک اور سیاہ شکل میں ہوتی ہے لہٰذا اس پر آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں پھر اس کو پرانے اور بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر نمازی کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔ (السنن لسعید بن منصور عن عبادۃ بن الصامت)