19259- قال: أنبئت يا معاذ إذا كان الشتاء فغلس بالفجر، وأطل القراءة على قدر ما يطيق الناس ولا تملهم، وصل الظهر إذا زالت الشمس، وصل العصر والمغرب في الشتاء والصيف في ميقات واحد وصل العصر والشمس بيضاء نقية، وصل المغرب إذا غابت الشمس وتوارت بالحجاب، وصل العشاء وأعتم بها، فإن الليل طويل، وإذا كان الصيف فأسفر بالفجر، فإن الليل قصير: والناس ينامون فأمد لهم حتى يدركوها، وصل الظهر حين تتنفس الشمس وتتحرك الريح، فإن الناس يقيلون فأمهلهم، حتى يدركوها وصل العصر والمغرب في الشتاء والصيف على ميقات واحد. "حل عن معاذ".
"أوقات الصلاة مفصلة على الترتيب"
"وقت صلاة الفجر""وما يتعلق به من السنن والآداب والفضائل"
19259 ۔۔۔ اے معاذ ! جب سرما کا موسم ہو تو فجر کو اندھیرے منہ ادا کرلے ۔ اور لوگوں کی ہمت کے بقدر قرات طویل کر لیکن ان کو اکتاہٹ اور تھکاوٹ میں مت ڈال ۔ ظہر کی نماز پڑھ جب سورج کا زوال ہوجائے اور عصر ومغرب کو موسم سرما وگرما میں ایک ہی وقت میں پڑھ ۔ یعنی عصر اس وقت جب سورج سفید اور صاف چمکدار ہو اور مغرب اس وقت پڑھ جب سورج غروب ہوجائے اور پردے میں چھپ جائے ۔ اور عشاء کو سرما میں اندھیرے میں ادا کر کیونکہ سرما کی رات طویل ہوتی ہے۔ جب موسم گرما ہو تو فجر کو روشن کر کے پڑھ ۔ کیونکہ رات (گرما میں) چھوٹی ہوتی ہے اور لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لیے کچھ دیر ٹھہر جا تاکہ وہ بھی نماز کو پالیں ۔ اور ظہر کی نماز اس وقت پڑھ جب سورج سانس لینے لگ جائے اور ہوا چل پڑے کیونکہ لوگ اس وقت قیلولہ کرتے ہیں ان کو مہلت دو تاکہ وہ بھی شریک جماعت ہوجائیں ۔ اور عصر ومغرب کو گرما وسرما دونوں موسموں میں ایک ہی وقت میں پڑھ ۔ (حلیۃ الاولیاء عن معاذ (رض))