19439- لا تزال أمتي في فسحة من دينها ما لم يؤخروا المغرب إلى اشتباك النجوم، وما لم يؤخروا صلاة الفجر إلى إمحاق النجوم ولم يكلوا الجنائز إلى أهلها.
"الخطيب عن محمد بن الضوء بن الصلصال بن الدلهمس عن أبيه عن جده" وقال: هذا الحديث يحفظ بغير هذا الإسناد ومحمد بن الضوء ليس بمحل لأن يؤخذ عنه العلم لأنه كان كذابا متهتكا بشرب الخمر مجاهرا بالفجور.
19439 ۔۔۔ میری امت اپنے دین کی کشادگی پر رہے گی جب تک مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہ کریں ، نیز فجر کو ستاروں کے ڈوب جانے تک مؤخر نہ کریں اور جنازوں کو ان کے اہل کے حوالے نہ کریں۔ (الخطیب عن محمد بن الضوء بن الصلصال بن الدلھمس عن ابیہ عن جدہ) کلام : ۔۔۔ علامہ بغدادی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث اس سند کے سوا بھی محفوظ کی گئی ہے اور محمد بن ضوء اس مقام کا راوی نہیں ہے کہ اس سے علم کی بات حاصل کی جائے ۔ کیونکہ وہ جھوٹا ہونے کے ساتھ ساتھ شرب خمر جیسی دیگر فواحش کا بھی مرتکب تھا ۔