19483- لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة، ولأخرت العشاء الآخرة إلى ثلث الليل، فإذا مضى ثلث الليل الأول، هبط الله تعالى إلى السماء الدنيا فلم يزل هنالك حتى يطلع الفجر، فيقول قائل: ألا سائل يعطى؟ ألا داع يجاب؟ ألا سقيم يستشفي فيشفى؟ ألا مذنب يستغفر فيغفر له. "حم وابن جرير والخطيب عن علي حم وابن جرير عن أبي هريرة".
19483 ۔۔۔ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا اور عشاء کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا جب تہائی رات بسر ہو جائی ہے تو اللہ پاک آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور طلوع فجر تک وہیں ہوتے ہیں اس وقت ایک کہنے والا کہتا ہے : کیا کوئی سائل ہے جس کو عطا کیا جائے ؟ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے جس کی دعا قبول کی جائے ؟ کیا کوئی بیمار ہے جو شفاء مانگے اور اس کو شفا دی جائے ؟ کیا کوئی گناہ گار ہے جو بخشش مانگے اور اس کی بخشش کی جائے ؟ ممسند احمد ابن جریر الخطیب عن علی (رض) ابن جریر عن ابوہریرہ (رض))