19591- صل صلاة الصبح، ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان، وحينئذ يسجد لها الكفار، ثم صل فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى يستقل الظل بالرمح، ثم أقصر عن الصلاة، فإن حينئذ تسجر جهنم، فإذا أقبل الفيء فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى تصلي العصر، ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان، وحينئذ يسجد لها الكفار. "م عن عمرو بن عبسة"
19591 ۔۔۔ صبح کی نماز پڑھ۔ پھر نماز سے رک جا حتی کہ سورج طلوع ہو کر بلند ہوجائے ۔ بیشک جب سورج طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ اس وقت اس کو کفار سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھ ، اس وقت کی نماز ملائکہ کی حضوری کا ذریعہ ہے حتی کہ سایہ نیزے کے ساتھ ٹھہر جائے ۔ (اور ادھر ادھر سایہ نظر نہ آئے) پھر نماز سے رک جا۔ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر سایہ ہوجائے تو اس وقت کی نماز ملائکہ کی حضوری کا ذریعہ ہے حتی کہ تم عصر کی نماز پڑھو ۔ پھر نماز سے رک جاؤ حتی کہ سورج غروب ہوجائے ۔ بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔ اور اس وقت اس کو کفار سجدہ کرتے ہیں۔ ممسلم عن عمرو بن عبسہ)