19632- مفتاح الصلاة الطهور، وتحريمها التكبير، وتحليلها التسليم، وفي كل ركعتين تسليمة، ولا صلاة لمن لم يقرأ في كل ركعة بالحمد وسورة في فريضة أو غيرها. "ش ت وبقي بن مخلد وابن جرير
ع ق عن أبي سعيد" زاد ق: إذا ركع أحدكم فلا يدبح تدبيح الحمار وليقم صلبه، وإذا سجد فليمد صلبه، فإن الإنسان يسجد على سبعة أعظم جبهته وكفيه وركبتيه وصدور قدميه، فإذا جلس فلينصب رجله اليمنى وليخفض رجله اليسرى.
19632 ۔۔۔ نماز کی چابی پاکیزگی ہے ، نماز کی تحریم تکبیر ہے ، نماز کی تحلیل سلام ہے ، اور ہر دو رکعت میں ایک مرتبہ سلام پھیرنا ہے۔ اور اس شخص کی نماز نہیں جو ہر رکعت میں الحمد للہ اور سورت نہ پڑھے ، فرض نماز ہو یا اس کے علاوہ ۔ ممصنف ابن ابی شیبۃ ، ترمذی ، بقی بن مخلد ، ابن جریر ، مسند ابی یعلی ، السنن للبیہقی عن ابی سعید (رض) ، السنن للبیہقی میں یہ اضافہ ہے) جب کوئی رکوع کرے تو گدھے کی طرح کمر اوپر اور سر نیچے نہ جھکاوے ۔ بلکہ اپنی کمر (اور سر) کو سیدھا کرلے اور جب سجدہ کرے تو اپنی کمر کو دراز کرلے ۔ بیشک انسان سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے ، پیشانی ، دو ہتھیلیاں ، دو گھٹنے ، دونوں پاؤں کے پنجے ، جب کوئی بیٹھے تو اپنے سیدھے پاؤں کو کھڑا کرے اور اپنے بائیں پاؤں کو لٹالے ۔ فائدہ : ۔۔۔ فرض کی پہلی دو رکعات میں اور سنن نوافل اور وتر کی ہر رکعت میں فاتحہ اور سورت پڑھنا لازمی ہے۔ جب کہ مقتدی کے لیے امام کی فاتحہ اور سورت کافی ہے۔