19634- يا أخا ثقيف سل عن حاجتك، وإن شئت أن أخبرك عما جئت تسأل عنه؟ قال: ذاك أعجب إلي، قال: فإنك تسألني عن صلاتك وعن ركوعك وعن سجودك وعن صيامك، فصل أول الليل وآخره، ونم وسطه، فإذا قمت إلى الصلاة فركعت فضع يديك على ركبتيك، وفرج بين أصابعك، ثم ارفع رأسك حتى يرجع كل عضو إلى مفصله، وإذا سجدت فمكن جبهتك من الأرض ولا تنقر، وصم الليالي البيض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة. "طب عن ابن عمر".
19634 ۔۔۔ اے ثقیف کے بھائی ! اپنا سوال کہو ، اور اگر تم کہو تو میں تم کو بتا دیتا ہوں کہ تم کس چیز کے بارے میں سوال کرنے آئے ہو ؟ ثقیف کے فرد نے کہا ؟ یہ تو میرے لیے زیادہ خوشی اور تعجب کی بات ہوگی ۔ تب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نماز ، نماز کے رکوع و سجود اور روزوں کے بارے میں سوال کرنے آئے ہو ، لہٰذا تم رات کے شروع اور آخر حصے میں نماز پڑھو اور درمیانی حصے میں نیند کرو۔ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو رکوع میں اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو ، اپنی انگلیوں کو کھول لو۔ پھر رکوع سے سر اٹھاؤ۔ (اور سیدھے کھڑے ہوجاؤ) حتی کہ ہر جوڑ اپنی جگہ بیٹھ جائے ۔ جب سجدہ کرو تو پیشانی کو سکون کے ساتھ زمین پر ٹیکو ۔ اور صرف ٹھونگیں نہ مارو۔ اور چاندنی راتوں کے روزے رکھو یعنی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھو ۔ مالک بیر للطبرانی عن ابن عمر (رض))