19649- التكبيرة الأولى يدركها الرجل مع الإمام خير له من ألف بدنة يهديها.
"الديلمي عن ابن عمر".
19648 ۔۔۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! ان کلمات کی طرف دس فرشتے بڑھے ہیں۔ ہر ایک اس بات کا خواہش مند تھا کہ وہی ان کلمات (کے ثواب) کو لکھے ۔ لیکن کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ اس کو کیسے لکھیں حتی کہ وہ ان کلمات کو جوں کا توں اٹھا کر رب العزت کے پاس لے گئے ۔ پروردگار نے ان کو ارشاد فرمایا : ن کلمات کو یونہی لکھ دو جس طرح میرے بندے نے ان کو کہا ہے۔ یعنی ۔ ” الحمد للہ کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا ان یحمد وینبغی لہ “۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، بہت بہت پاکیزہ اور بابرکت ۔ جس طرح ہمارا رب چاہے کہ اس کی حمد کی جائے اور جس طرح کی تعریف کہ اس کے لیے مناسب ہو۔ مابن حبان کے الفاظ) کما یحب ربنا ان یحمد کی بجائے کما یحب ربنا ویرضی ان یحمد ہیں۔ ممسند احمد ، نسائی ، ابن حبان ، السنن لسعید بن منصور عن انس (رض))