19812-[سجد لك خيالي وسوادي وآمن بك فؤادي، فهذه يدي وما جنيت بها على نفسي يا عظيم يرجى لكل عظيم اغفر لي الذنب العظيم] ، [سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره] [أعوذ برضاك من سخطك، وأعوذ بعفوك من عقابك، وأعوذ بك منك أنت كما أثنيت على نفسك] أقول كما قال أخي داود: أعفر وجهي في التراب لسيدي، وحق لسيدي أن يسجد له، اللهم ارزقني قلبا تقيا، من الشر نقيا لا جافيا ولا شقيا. "هب عن عائشة".
19812 ۔۔۔ تجھے سجدہ کیا میرے خیال نے میرے وجود نے ، تجھ پر ایمان لایا میرا دل ، یہ میرا ہاتھ ہے۔ میں نے اس کے ساتھ اپنے نفس پر ظلم نہیں کیا اے عظیم ! ہر عظیم ذات سے امید باندھی جاتی ہے۔ پس میرے گناہ بخش دے اے عظیم ! میرا چہرہ سجدہ ریز ہوا اس ذات کے آگے جس نے اس کو پیدا کیا اس کے کان اور آنکھ کو کھولا ۔ اے پروردگار ! میں تیری رضاء کے ساتھ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں ۔ تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں تیری سزا سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے ، اے پروردگار ! تو ایسا ہے جیسی تو نے اپنی تعریف فرمائی ۔ میں اپنے بھائی داؤد (علیہ السلام) کی طرح کہتا ہوں ۔ میں اپنے چہرے کو اپنے آقا کے لیے مٹی میں ملاتا ہوں ، بیشک میرے آقا کو لائق ہے کہ اس کے لیے سجدہ کیا جائے ، اے اللہ مجھے صاف ستھرا دل دے جو شر سے پاک صاف ہو ، نہ ظلم پر آمادہ ہو اور نہ بدبختی کا مرتکب ہو ۔ (شعب الایمان للبیہقی ، عن عائشۃ (رض))