hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 19817

.

كنز العمال

19817
Kanz al-Ummal
19817- إذا شك أحدكم في صلاته فلم يدر كم صلى ثلاثا أم أربعا؟ فليطرح الشك، وليبن على ما استيقن، ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم، فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته، وإن كان صلى إتماما لأربع كانتا ترغيما للشيطان. "حم م د ن هـ عن أبي سعيد".
19817 ۔۔۔ جب کسی کو اپنی نماز میں شک ہو اور اس کو معلوم نہ ہو سکے کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں ، تین یا چار ؟ تو وہ شک کو دفع کر دے اور یقینی بات پر عمل کرے ۔ پھر دو سجدے کرے آخری سلام پھیرنے سے قبل ۔ اگر تو اس نے پانچ رکعات پڑھ لی ہوں گی تب یہ اس کی نماز کے لیے شفاعت کریں گی اور اگر چار رکعات پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے ذلت کا سبب بنیں گے ۔ (مسند احمد ، مسلم ، ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ عن ابی سعید (رض)) فائدہ : ۔۔۔ جب تین یا چار رکعات ہونے میں شک ہو اگر شک بار بار ہوتا رہتا ہے تو شک کی طرف دھیان نہ دے بلکہ ظن غالب پر عمل کرے اور اگر پہلی بار ہوا ہے یا بہت عرصہ بعد ہوا ہے تو اس شک کو دفع کرے اور یقین پر عمل کرے مثلا تین رکعات کا ہونا یقینی ہے لہٰذا اس تیسری رکعت کے بعد قعدہ کرے کیونکہ ممکن ہے یہ چوتھی رکعت ہو تب یہ قعدہ فرض ہوگا ۔ اس لیے قعدہ کرے اور قعدہ کے بعد ایک رکعت مزید ادا کرے یہ رکعت چوتھی ہوگی یا پانچویں ۔ بہر صورت سلام پھیرنے سے قبل ایک سلام پھیر کر دو سجدے سہو کے ادا کرے ، پھر تشہد ، درود اور دعا کے بعد سلام پھیر دے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں آیا ہے۔