19960- أيحب أحدكم أن يستقبله الرجل فيبصق في وجهه؟ إن أحدكم إذا قام إلى الصلاة فإنما يستقبل ربه، والملك عن يمينه فلا يبصق بين يديه ولا عن يمينه ولكن عن يساره أو تحت قدمه، فإن عجلت به بادرة فليقل: هكذا يعني في ثوبه.
"حم ع ك ض عن أبي سعيد؛ الدارمي وابن خزيمة وأبو عوانة حب عن أبي سعيد وأبي هريرة معا".
19960 ۔۔۔ کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے سامنے آکر اس کے منہ پر تھوک دے ۔ بیشک جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا وتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں طرف ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے ۔ بلکہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے ۔ اور اگر اس کو جلدی ہو تو وہ یوں کپڑے میں مسل دے ۔ (مسند احمد ، مسند ابی یعلی ، مستدرک الحاکم ، الضیاء للمقدسی عن ابی سعید ، الدارمی ، ابن خزیمہ ، ابوعوانہ ، ابن حبان عن ابی سعید عن ابوہریرہ (رض))