19981-[يا بني إياك والإلتفات في الصلاة، فإن الإلتفات في الصلاة هلكة فإن كان لا بد ففي التطوع لا في الفريضة] [يا بني إذا دخلت على أهلك فسلم يكون بركة عليك وعلى أهل بيتك] يا بني إن قدرت أن تصبح وتمسي ليس في قلبك غش على أحد فافعل، ثم قال لي: يا بني وذلك من سنتي، ومن أحيا سنتي فقد أحياني ومن أحياني كان معي في الجنة "ت عن أنس".
19981 ۔۔۔ (اے بیٹے ! نماز میں التفات سے بچ ، بیشک نماز میں التفات کرنا ہلاکت ہے۔ اگر انتہائی ضروری ہو تو نفل میں کر فرض میں نہ کر) (ترمذی رقم الحدیث 589) ماے بیٹے ! جب تو گھر والوں کے پاس جائے تو ان کو سلام کر یہ تیرے لیے اور تیرے گھر والوں کے لیے بھی برکت کا باعث ہوگا ۔ (ترمذی رقم الحدیث 2698) اے بیٹے ! اگر تجھ سے ہو سکے کہ تو اس حال میں صبح وشام کرے کہ کسی کے لیے تیرے دل میں کھوٹ نہ ہو تو ایسا ہی کر ۔ (ترمذی 2678) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرما کر (پھر بطور تاکید مجھے) فرمایا : اے بیٹے یہ میری سنت ہے۔ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھے زندگی بخشی اور جس نے مجھے زندگی بخشی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ۔ (ترمذی عن انس (رض))