20104- قال الله عز وجل: ليس كل مصل يصلي، إنما أتقبل صلاة ممن تواضع لعظمتي، وكف شهواته عن محارمي، ولم يصر على معصيتي، وأطعم الجائع، وكسا العريان، ورحم المصاب وآوى الغريب كل ذلك لي، وعزتي وجلالي إن نور وجهه لأضوء عندي من نور الشمس، على أن أجعل الجهالة له حلما، والظلمة نورا يدعوني فألبيه، ويسألني فأعطيه، ويقسم علي فأبره، أكلأه بقربي، وأستحفظه ملائكتي، مثله عندي كمثل الفردوس لا يتسنى ثمرها ولا يتغير حالها. "الديلمي عن حارثة بن وهب".
20104 ۔۔۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : ہر نمازی درحقیقت نماز نہیں پڑھتا ، میں صرف اس شخص کی نماز قبول کرتا ہوں جو میری عظمت کے آگے جھک جائے ، میری حرام کردہ چیزوں سے اپنی خواہشات کو روک لے ، میری نافرمانی پر اصرار نہ کرے ، بھوکے کو کھانا کھلائے ، ننگے کو لباس پہنائے ، مصیبت زدہ پر رحم کرے ، پردیسی کو ٹھکانا دے ، یہ سب کچھ میرے لیے کرے ، پھر میری عزت کی قسم ! میرے جلال کی قسم ! اس کے چہرے کا نور میرے نزدیک سورج کے نور سے زیادہ روشن ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ میں اس کی جہالت کو اس کے لیے حلم وبردباری بنا دوں گا ، تاریکی کو اس کے لیے روشنی بنا دوں گا ، وہ مجھے پکارے گا تو میں اس کو لبیک کہوں گا ، وہ مجھ سے سوال کرے گا تو میں اس کو عطا کروں گا ، وہ مجھ پر قسم اٹھالے گا تو میں اس کی قسم پوری کروں گا ، میں اس کو اپنے قرب کا سہارا دوں گا اور میرے ملائکہ اس کی حفاظت کریں گے ، اس کی مثال میرے نزدیک اس جنت الفردوس کی ہے جس کا پھل کبھی خراب نہیں ہوتا اور اس جنت کی تروتازگی کبھی ماند نہیں پڑتی ۔ (الدیلمی عن حارثۃ بن وھب)