2087 – "سيد الاستغفار أن تقول: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك علي - وأبوء لك بذنبي، فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، من قالها من النهار موقنا بها فمات من يومه قبل أن يمسي فهو من أهل الجنة" . (حم خ ن) عن شداد بن أوس.
2087 ۔۔۔ کیا میں تجھے سید الاستغفار نہ بتاؤں ؟ وہ یہ ہے
اللھم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عھدک ووعدک ما استطعت اعوذبک من شر ما صنعت، ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذ نبی فاغفرلی ذنوبی انہ لا یغفر الذنوب الا انت۔
اے اللہ تو ہی میرا رب ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا۔ میں تیرا بندہ ہوں۔ اپنی ہمت و وسعت کے بقدر تیرے ساتھ کیے ہوئے عہد و پیمان پر کاربند ہوں۔ اور اپنے کاموں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تیری مجھ پر نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار ہوں۔ پس میرے گناہوں کو بخش دے۔ یقیناً تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔
جس نے دن کے وقت اس کلمہ کو دل کے یقین کے ساتھ کہا اور پھر شام سے قبل موت نے آلیا تو وہ اہل جنت میں شمار ہوگا۔ (مسند احمد، الصحیح للبخاری (رح) النسائی بروایت شداد بن اوس)
نسائی میں یہ اضافہ ہے کہ اور جس نے اس کلمہ کو رات کے وقت دل کے یقین کے ساتھ کہا اور پھر صبح سے قبل موت نے آلیا تو وہ اہل جنت میں شمار ہوگا۔