20883- إذا نودي بالصلاة أدبر الشيطان وله ضراط حتى لا يسمع التأذين، فإذا قضى النداء أقبل حتى إذا ثوب بالصلاة أدبر، حتى إذا قضي التثويب أقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه يقول: اذكر كذا، واذكر كذا لما لم يكن يذكر من قبل حتى يظل الرجل لا يدري كم صلى. "مالك ق د ن عن أبي هريرة".
20883 ۔۔۔ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز (پاد) مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے ۔ پھر اذان مکمل ہوجاتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے حتی کہ اقامت پوری ہوتی ہے اور وہ واپس آجاتا ہے اور نمازی اور اس کے دل کے درمیان آجاتا ہے اور اس کو حکم دیتا ہے : فلاں چیز یاد کر ، فلاں چیز یاد کر حتی کہ پہلے جو چیز اس کو قطعا نہ یاد آرہی تھی وہ بھی یاد آجاتی ہے لیکن آدمی کو معلوم نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ (موطا امام مالک (رح) ، البخاری ، مسلم ، ابوداؤد، النسائی عن ابوہریرہ (رض))