21435- ركعتان يركعهما ابن آدم جوف الليل الأخير، خير له من الدنيا وما فيها، ولولا أن أشق على أمتي لفرضتهما عليهم. "آدم في الثواب وأبو نصر عن حسان بن عطية مرسلا؛ الديلمي عن ابن عمر".
21436 ۔۔۔ رات کا افضل حصہ آخر رات کا حصہ ہے ، پھر فجر کی نماز تک نماز مقبول ہے۔ پھر طلوع شمس تک کوئی نماز قبول نہیں ، پھر عصر کی نماز تک نماز مقبول ہے۔ پھر غروب شمس تک کوئی نماز نہیں ، پوچھا گیا : یا رسول اللہ ! رات کی نماز کیسے ہے ؟ ارشاد فرمایا : دو دو رکعت ، پوچھا گیا : دن کی نماز کیسے ہے ؟ ارشاد فرمایا : چار چار رکعت ۔ اور جس نے نماز کے بعد نماز پڑھی اللہ پاک اس کے لیے ایک قیراط ثواب لکھیں گے ، اور قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔ بندہ جب کھڑا ہو کر وضو کرتا ہے ، پھر اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کی ہتھیلیوں سے نکل جاتے ہیں ، پھر وہ کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے گناہ ناک کے نتھنوں سے بھی نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ چہرے کانوں اور آنکھوں سے بھی نکل جاتے ہیں۔ پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اس کے گناہ بازوؤں سے بھی نکل جاتے ہیں پھر جب وہ سر کو مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ سر سے بھی نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ پاؤں سے بھی نکل جاتے ہیں اور جب وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے گناہوں سے یوں نکل جاتا ہے جیسے آج اس کی ماں نے اس کو جنم دیا (الجامع لعبدالرزاق عن علی (رض))