21454- من قام بعشر آيات لم يكتب من الغافلين، ومن قام بمائة آية كتب من القانتين، ومن قام بمائتي آية كتب من الفائزين. "الشيرازي في الألقاب وابن مردويه عن أبي سعيد".
21455 ۔۔۔ جس نے کسی رات میں دس آیات تلاوت کی وہ (تہجد کے) نمازیوں میں شمار ہوگا اور اس کو غافلین میں نہیں لکھا جائے گا ، جس نے پچاس آیات پڑھ لیں اس کو حافظین میں لکھا جائے گا ، جس نے سو آیات پڑھ لیں اس کو قانتین میں لکھا جائے گا ، اور جس نے تین سو آیات پڑھ لیں اس رات قرآن اس سے نہ جھگڑے گا ، اور پروردگار اسی کے متعلق فرمائے گا ، میرا بندہ میرے لیے تھک گیا ، اور جس نے ایک ہزار آیات پڑھ لی اس کو ایک قنطار (بہت بڑا ڈھیر) اجر کا نصیب ہوگا ، جس میں صرف ایک قیراط بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ہے ، اور جب قیامت کا دن ہوگا اس کو کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا ، وہ جب بھی ایک آیت پڑھے گا ایک درجہ اوپر چڑھ جائے گا حتی کہ وہ اپنے کو یاد سارا قرآن پڑھ لے ۔ پھر پروردگار عزوجل اس کو ارشاد فرمائیں گے ، اپنے دائیں ہاتھ میں خلد (ہمیشہ جنت میں رہنا) پکڑ لے اور بائیں ہاتھ میں نعیم (جنت کی نعمتیں) تھام لے ۔ (محمد بن نصر ، شعب الایمان للبیہقی وابن عساکر عن فضالۃ بن عبید وتمیم الداری معا)