21545- قد عرفت الذي رأيت من صنيعكم، فصلوا أيها الناس في بيوتكم، فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة. "حب عن زيد بن ثابت".
21546 ۔۔۔ اے عباس ! اے چچا ! کیا میں تجھے ایک عطیہ نہ کروں ؟ میں تجھے ایک خیر نہ دوں ؟ کیا میں آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو دس فضیلتیں نہ دوں ؟ جب آپ اس پر عمل کرلیں گے تو اللہ پاک آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دے گا ، پرانے نئے بھول کر کیے ہوئے ، جان بوجھ کر کیے ہوئے ، چھوٹے ، بڑے ، خفیہ اور اعلانیہ ہر طرح کے گناہ بخش دے گا ، یہ دس کلمات ہیں تو چار رکعات نماز پڑھ ہر رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور کوئی سورت پڑھ ، جب پہلی رکعت میں قرات سے فارغ ہوجائے تو کھڑے کھڑے ” سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر “۔ پندرہ مرتبہ پڑھ ، پھر رکوع کر ، اور رکوع میں (تسبیح کے بعد) یہی کلمات دس مرتبہ پڑھو، پھر سر اٹھا کر جب کھڑا ہو تو (ربنا لک الحمد کے بعد) دس بار پھر کہہ، پھر سجدے میں جا کر (سجدے کی تسبیح کے بعد) دس بار پڑھ ، پھر سجدہ سے اٹھ کر دس بار پڑھ ، پھر سجدے میں جا کر دس بار پھر پڑھ، پھر بیٹھ کر دس بار پڑھ، یہ ایک رکعت میں پچھتر کی تعداد ہوگئی ، اس طرح چاروں رکعات میں پڑھ ۔ گر تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں گے یا ریت کے ذرات کے برابر ہوں گے تب بھی اللہ تیرے سب گناہ بخش دے گا ۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو ہر روز ایک بار یہ نماز پڑھ لیا کر ، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ہر جمعہ میں ایک بار پڑھ لیا کر ، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ہر مہینہ میں ایک بار پڑھ لیا کر اور اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ہر سال میں ایک بار پڑھ لیا کر اور اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھ لے ۔ (ابو داؤد ، النسائی ، ابن ماجہ وابن خزیمہ ، مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض))