21621- عن عمر قال: "إن المصلي ليقرع باب الملك، وإنه من يدم قرع الباب يوشك أن يفتح له". "الديلمي في مسند الفردوس".
21622 ۔۔۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے آزاد کردہ غلام حارث کہتے ہیں : ایک دن سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) تشریف فرما تھے ہم بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں موذن آگیا آپ (رض) نے ایک برتن میں پانی منگوایا وہ برتن تقریبا ایک مد کے برابر تھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور پھر فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یونہی وضو فرماتے دیکھا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا تھا جس نے میری طرح وضو کیا اور پھر نماز ظہر ادا کی اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے وہ تمام گناہ معاف فرما دے گا جو صبح سے لے کر ظہر تک اس سے صادر ہوئے ہوں ، پھر عصر کی نماز پڑھی تو ظہر تا عصر جو گناہ صادر ہوئے جو وہ معاف فرما دے گا پھر عشاء کی نماز پڑھی تو عشا تک جتنے گناہ صادر ہوئے معاف فرما دے گا ، پھر وہ ممکن ہے رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزارے اور اگر صبح کو اٹھ کر وضو کیا اور نماز پڑھی تو عشاء سے صبح تک جو گناہ اس سے صادر ہوئے وہ بھی معاف فرما دے گا ، یہ سب نیکیاں ہیں جو برائیوں کو ختم کردیتی ہیں پھر کسی نے پوچھا اے عثمان ! باقی نیکیاں کیا ہی ؟ فرمایا ! وہ ” لا الہ الا اللہ و سبحان اللہ والحمد للہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ مسند امام احمد والمدنی والبزار ومسند ابی یعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان و سعید بن منصور) ۔