21626- عن علي قال: "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد ننتظر الصلاة، فقام رجل" فقال: "إني أصبت ذنبا، فأعرض عنه، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قام الرجل وأعاد القول،" فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أليس قد صليت معنا هذه الصلاة، وأحسنت لها الطهور؟ " قال: "بلى،" قال: "فإنها كفارة ذنبك". "طس".
21627 ۔۔۔ طلحہ بن نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک و جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ مبارک میں (خزاں زدہ) ایک ٹہنی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ٹہنی ہلائی اور اس سے پتے چھڑنے لگے ، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو اس کی مثال کیسی ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اس کی جملہ خطائیں اس کے سر پر رکھ دی جاتی ہیں جب وہ سجدہ میں جاتا ہے اس سے گناہ اس طرح جھڑنے لگتے ہیں جس طرح پتے اس ٹہنی سے ۔ (ابن زنجویہ)