21637- عن ابن عمر قال: "الصلاة حسنة لا أبالي من شاركني فيها". "عب".
21638 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : نمازیں کوتاہیوں کا کفارہ ہیں بلاشبہ آدمی کے پاؤں کے انگوٹھے پر آبلہ نکل آتا ہے پھر آگے بڑھتا ہوا ٹخنے تک پہنچ جاتا ہے، پھر گھٹنوں تک پہنچ جاتا ہے ، پھر پہلو تک پہنچ جاتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہوا گردن تک پہنچ جاتا ہے چنانچہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو گردن سے کاندھوں پر اتر آتا ہے پھر پہلو پر اتر آتا ہے وہاں سے گھٹنوں پر اتراتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے تو قدموں پر اتر آتا ہے اور پھر جب نماز پڑھتا ہے تو بدن سے بالکل الگ ہوجاتا ہے۔ (راوہ ابن عساکر) فائدہ :۔۔۔ حدیث میں گناہ کو آبلہ سے تشبیہ دی گئی ہے چنانچہ جب آدمی نماز نہیں پڑھتا تو وہ بتدریج آگے بڑھتا رہتا ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔