hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 21656

.

كنز العمال

21656
Kanz al-Ummal
21656- "مسند رفاعة بن أبي رافع الزرقي" "كنا جلوسا مع النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل رجل فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعها ولا سجودها ورسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقه ولا يشعر فصلى، ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد عليه السلام فقال: "أعد فإنك لم تصل"، فقال: أي رسول الله بأبي أنت وأمي والذي أنزل عليك الكتاب لقد اجتهدت وحرصت فأرني وعلمني قال: "إذا أردت أن تصلي فأحسن وضوءك، ثم استقبل القبلة فكبر، ثم اقرأ ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تعتدل قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تطمئن جالسا، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع فإذا أتممت على هذا صلاتك فقد أتممت، وما نقصت من هذا فإنما تنقصه من نفسك". "عب ش".
21656 ۔۔۔ یہ حدیث مسند رفاعہ بن رافع رازقی کی مسانید میں سے ہے) وہ فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا اور ہلکی سی نماز پڑھی اس نے پوری طرح رکوع کیا اور نہ ہی سجدہ کیا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے کن اکھیوں سے دیکھتے رہے حالانکہ اس آدمی کو پتہ تک نہیں چلا اور جب نماز سے فارغ ہوا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا سلام کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا اور ارشاد فرمایا نماز لوٹاؤ بلاشبہ تم نے نماز نہیں پڑھی اس آدمی نے عرض کیا یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان جائیں قسم اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن مجید نازل کیا ہے میں نے اپنے جیسی کوشش کرلی ہے مجھے نماز بتلائیے اور سکھلا دیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اچھی طرح سے وضو کرلو پھر قبلہ رو کھڑے ہو کر تکبیر کہو پھر قرآن پڑھو اور پھر اطمینان سے رکوع کرو ، پھر رکوع سے اعتدال کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو پھر اوپر اٹھ کر اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ پھر اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کرو پھر اوپر اٹھ جاؤ اور یوں اپنی نماز پوری کرلو تم نے اپنی نماز میں جو بھی کوتاہی کی تو اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ (عبدالرزاق وابن ابی شیبہ)