21661- عن أبي هريرة قال: "قام رجل إلى عمر فسأله عن الصلاة في الثوب الواحد، فقال: إذا وسع الله عليكم فأوسعوا على أنفسكم، جمع رجل عليه ثيابه، صلى رجل في إزار ورداء، في إزار وقميص، في إزار وقباء، في سراويل ورداء، في سراويل وقباء، في سراويل وقميص، في تبان ورداء، في تبان وقميص، في تبان وقباء". "مالك عب وابن عيينة في جامعه خ هق".
21661 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں ایک آدمی نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : جب اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں وسعت عطا فرمائے تو اپنی جانوں پر بھی وسعت کرو ، چنانچہ کوئی آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے اوپر کپڑوں کو جمع کرلیتا ہے کوئی ازار اور چادر میں نماز پڑھتا ہے کوئی ازار اور قمیص میں ، کوئی ازار اور قبا میں کوئی شلوار اور چادر میں ، کوئی شلوار اور قبا میں کوئی شلوار اور قمیص میں ، کوئی جان گیا اور چادر میں ، کوئی جان گیا اور قمیص میں ، کوئی جان گیا اور قبا میں نماز پڑھتا ہے۔ (مالک عبدالرزاق ابن عیینہ فی جامعہ البخاری والبیھقی فی الکبیر) فائدہ : ۔۔۔ حدیث میں لباس کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں ، یعنی ہر آدمی اپنی وسعت کے مطابق کپڑا پہنتا ہے گو کہ بعض صورتیں کفایتی درجہ کی ہیں نہایہ میں ہے کہ جان گیا سے مراد ہمارے زمانے کے مروجہ جانگیے نہیں ہیں بلکہ چھوٹی شلوار مراد ہے جو ستر عورت کے لیے کافی ہو۔