hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 21692

.

كنز العمال

21692
Kanz al-Ummal
21692- عن نافع "أن ابن عمر كساه ثوبين وهو غلام فدخل المسجد فوجده يصلي متوشحا به فقال: أليس لك ثوبان تلبسهما؟ فقلت: بلى فقال: أرأيت لو أني أرسلتك إلى وراء الدار أكنت لابسهما؟ قلت: نعم، قال: فالله أحق أن يتزين له أم الناس؟ فقلت: الله، فأخبره عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أو عن عمر قد استيقن نافع أنه عن أحدهما وما أراه إلا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "لا يشتمل أحدكم في الصلاة اشتمال اليهود ليتوشح به، ومن كان له ثوبان فليتزر ثم ليصل"، قال نافع: وكان عبد الله لا يرى لأحد أن يصلي بغير إزار وسراويل، وإن كانت جبة ورداء دون إزار وسراويل". "عب".
21692 ۔۔۔ نافع (رح) کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے انھیں دو کپڑے پہنائے چنانچہ ایک دن ابن عمر (رض) مسجد میں تشریف لائے اور نافع (رح) کو پایا وہ پورے جسم کو چادر سے لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے آپ (رض) نے فرمایا کیا تمہارے پاس دو کپڑے نہیں جنھیں تم پہن سکو میں نے عرض کیا جی ہاں مجھے دو کپڑے میسر ہیں۔ فرمایا مجھے بتاؤ اگر میں تمہیں گھر کے پیچھے بھیج دوں تو کیا پہن کر واپس آجاؤ گے میں نے اثبات میں جواب دیا آپ (رض) نے فرمایا کیا اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے زیادہ لائق ہے کہ اس کے لیے زینت کی جائے ، یا لوگ اس کے زیادہ حقدار ہیں ؟ میں نے عرض کیا اللہ تبارک وتعالیٰ اس کا زیادہ حقدار ہے ، نافع (رح) کو ابن عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث سنائی ، نافع (رح) کہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (موقوف نہیں ہے) وہ یہ کہ آپ (رض) نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی بھی یہودیوں کی طرح چادر نہ اوڑھے جسے دو کپڑے میسر ہوں وہ ایک کپڑے کو اوپر اوڑھے اور دوسرے کا ازار بنا لے اور پھر نماز پڑھے نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) جائز نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی بغیر تہبند یا شلوار کے نماز پڑھے گو کہ جبہ ہی کیوں نہ پہن رکھا ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)