21708- وعنها "أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يصلى في شعار المرأة". "عب".
21710 ۔۔۔ مسند عبداللہ بن جراد میں ابن عساکر ابو القاسم سمرقندی ابو قاسم بن مسعدہ ابو عمرو عبدالرحمن بن محمد فارسی ، ابو احمد بن عدی حسین بن عبداللہ بن یزید قطان ابو ایوب وزان یعلی بن اشدق بن بشیر بن ثوب بن مشمرخ بن یزید بن مالک بن خفاجہ بن عمرو بن عقیل ۔ (ایضا) ابو قاسم اسماعیل بن احمد بن سماک محمد بن احمد بن براء علی بن مدینی کے سلسلہ سند سے عبداللہ بن جراد (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ جامع مسجد میں نماز پڑھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی اور اسے گرہ دے کر باندھ رکھا تھا ۔ کلام : ۔۔۔ ابو قاسم کہتے ہیں : یہ شامی حدیث ہے اور اس کی سند مجہول ہے لیکن یہی حدیث عمر بن حمزہ نے بھی روایت کی ہے اور یعلی بن اشدق کی سند میں کوئی حرج نہیں ہے پھر بھی عمر بن حمزہ ہی صرف یعلی سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں اور یہ جزیرہ کی مقیمی تھے عبداللہ بن جراد سے یعلی کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں کرتا جو نسخہ میرے پاس ہے اس میں اسی طرح ہے ابو عبداللہ بن خلال کہتے ہیں کہ ابو قاسم بن مندہ نے ہمیں یہ حدیث اجازہ سنائی ہے۔ بو ظاہر بن سلمہ علی بن محمد ، ابو محمد بن ابو حاتم ، عبداللہ بن جراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ، عبداللہ بن جراد سے یعلی بن اشدق روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو کہتے سنا ہے کہ عبداللہ بن جراد غیر معروف راوی ہے اور یہ اسناد صحیح بھی نہیں الغرض یعلی بن اشدق ضعیف راوی ہیں ابو زرعہ کہتے ہیں کہ یعلی بن اشدق صادق الحدیث نہیں ہے۔ (انتہی) ۔