21784- عن العلاء بن عبد الرحمن أنه قال: "دخلنا على أنس بن مالك بعد الظهر فقام يصلي العصر، فلما فرغ ذكرنا تعجيل الصلاة أو ذكرها فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تلك صلاة المنافقين - ثلاث مرات - يجلس أحدهم حتى إذا اصفرت الشمس وكانت بين قرني الشيطان أو على قرني الشيطان قام فنقر أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا". "مالك"
21786 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) آئے اور کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی ، حتی کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوچکا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بخدا میں نے بھی نماز نہیں پڑھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اترے وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی سورج غروب ہوچکا تھا اور پھر عصر کے بعد مغرب کی نماز پڑھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)