21791- عن الزهري قال: "كنا مع عمر بن عبد العزيز فأخر صلاة العصر مرة فقال له عروة: حدثني بشير بن أبي مسعود أن المغيرة ابن شعبة أخر الصلاة مرة يعني العصر وهو على الكوفة، فدخل عليه أبو مسعود الأنصاري فقال: أما والله يا مغيرة لقد علمت أن جبريل نزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى الناس معه، ثم نزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وصلى الناس معه، حتى عد خمس صلوات ثم قال: هكذا أمرت فقال له عمر: انظر ما تقول يا عروة أو أن جبريل هو أقام وقت الصلاة؟ فقال عروة: كذلك كان بشير بن أبي مسعود يحدث عن أبيه". "عب"
21793 ۔۔۔ عروہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی مغیرہ (رض) کے پاس گیا مغیرہ (رض) اس وقت کوفہ کے گورنر تھے اس نے مغیرہ (رض) کو دیکھا کہ عصر کی نماز میں تاخیر کر رہے ہیں وہ آدمی بولا آپ عصر کی نماز تاخیر سے کیوں پڑھتے ہیں۔ حالانکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتا تھا اور پھر میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں اپنے اہل خانہ کے پاس جاتا جب کہ سورج بدستور چمک رہا ہوتا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)