21796- وعنها قالت: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر والشمس طالعة في حجرتي لم يظهر الفيء بعد". "عب ص ش".
21798 ۔۔۔ فرات بن سلمان کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ایک مرتبہ فرمایا : کیا تم میں سے کوئی آدمی ہے جو اٹھے اور عصر سے پہلے چار رکعات پڑھے اور ان میں وہ تسبیحات پڑھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھا کرتے تھے ، وہ تسبیح یہ ہے۔ ” تم نورک فھدیت ، فلک الحمد وعظم حلمک فعفوت فلک الحمد بسطت یدک فاعطیت فلک الحمد ربنا وجھک اکرم الوجوہ وجاھک اعظم الجاہ ، وعطیتک افضل العطیۃ اوھناھا تطاع دینا فتشکر وتعضی ربنا فتغفر وتجیب المضطر وتکشف الضر وتشفی السقیم وتغفر الذنب وتقبل التوبہ ولا یجزی بالائک احد ولا یبلغ مدحتک قول وقائل : (اے ہمارے رب) تیرا نور کامل ومکمل ہے اور تو ہدایت دینے والا ہے ، تمام نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں ، تیری بردباری عظیم الشان ہے تو معاف کردیتا ہے اور تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے ، تو نے اپنے ہاتھ کو پھیلا رکھا ہے تو ہی عطا کرتا ہے اور تو ہی قابل ستائش ہے، اے ہمارے رب ! تو سراپا بخشش ہے اور تو عظیم تر شان و شوکت والا ہے۔ تیرا عطیہ سب سب افضل اور بہت ہی مزیدار ہے ، اے ہمارے رب تیری اطاعت کی جاتی ہے اور تو اس کی پاسداری بھی کرتا ہے ، اے ہمارے رب ! تیری نافرمانی کی جاتی ہے اور تو بخش دیتا ہے ، بےچین کی سنتا ہے اور پریشانی کو دور کرتا ہے ، بیمار کو شفاء عطا کرتا ہے اور تو گناہوں کو معاف کرتا ہے ، تو توبہ بھی قبول کرتا ہے اور تیری نعمتوں کا کوئی بھی بدلہ نہیں دے سکتا اور تیری تعریف کا احاطہ کسی قائل کا قول نہیں کرسکتا ۔ (ابویعلی)