21811- عن السائب مولى الفارسيين عن زيد بن خالد الجهني أنه رآه عمر بن الخطاب وهو خليفة يركع بعد العصر ركعتين فمشى إليه فضربه بالدرة وهو يصلي كما هو، فلما انصرف قال زيد: "أضرب يا أمير المؤمنين فوالله لا أدعها أبدا إذ رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليهما، فجلس إليه عمر وقال: يا زيد بن خالد لولا أني أخشى أن يتخذهما الناس سلما إلى الصلاة حتى الليل لم أضرب فيهما". "عب".
21813 ۔۔۔ مقدام بن شریح (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) عنہاـ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی کیفیت کیا تھی حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز پڑھتے اور پھر ان کے بعد دو رکعتیں پڑھتے پھر عصر کی نماز پڑھتے اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے میں نے عرض کیا کہ عمر (رض) تو عصر کے بعد کی رکعتوں سے منع کرتے تھے اور مارتے بھی تھے ؟ ـحضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کہنے لگیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) پڑھتے تھے انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے لیکن تمہاری قوم یعنی اہل یمن کمینے لوگ ہیں چنانچہ وہ ظہر کی نماز پڑھتے ہیں اور پھر ظہر اور عصر کے درمیان بھی پڑھتے رہتے ہیں ، پھر عصر کی نماز پڑھتے ہیں اور پھر عصر اور مغرب کے درمیان بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں سو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بہت اچھا کرتے تھے ۔ (ابو العباس فی مسندہ)