21845- وعنه قال: "جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشا حتى انتصف الليل أو بلغ ذلك، ثم خرج إلينا فقال: صلى الناس ورقدوا وأنتم تنتظرون الصلاة، أما إنكم لن تزالوا في صلاة منذ انتظرتموها". "ش وابن جرير".
21847 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز تاخیر کے ساتھ پڑھی حتی کہ لوگ (مسجد میں) سو گئے اور پھر بیدار ہوئے پھر سوئے اور پھر بیدار ہوئے اتنے میں عمر بن خطاب (رض) اٹھے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! نماز پڑھئے چونکہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے نکلے مجھے ایسا لگتا ہے گویا میں ابھی ابھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ سر مبارک کی ایک طرف رکھا تھا اور پانی صاف کر رہے تھے ارشاد فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انھیں حکم دیتا کہ یہ نماز اسی وقت میں پڑھا کرو ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ! بخدا یہی وقت ہے اگر مجھے امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا ۔ (عبدالرزاق ، سعید بن منصور ، بخاری و مسلم وابن جریر)