2202 – " إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم، وفيه قبض، وفيه النفخة وفيه الصعقة، فأكثروا علي من الصلاة فيه، فإن صلاتكم معروضة علي قالوا: يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت (1) ؟ فقال: إن الله عز وجل حرم على الأرض أجساد الأنبياء". (حم ش د ن هـ والدارمي وابن خزيمة حب ك طب ق ص عن أوس بن أوس الثقفي) ورواه في الصلاة فقال: عن شداد بن أوس قال: المزي (2) في الأطراف وذلك وهم منه) .
2202 ۔۔ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ اسی میں آدم کی تخلیق ہوئی۔ پھر اسی میں ان کی روح قبض ہوئی۔ اسی میں صور اول و ثانی پھونکا جائے گا۔ سو اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھو، تمہارا درود مجھ پر پیش کردیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارا درود پڑھنا آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے ؟ فرمایا اللہ نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام فرما دیے ہیں۔ (مسند احمد، ابن ابی شیبہ، النسائی، ابو داؤد ، ابن ماجہ ، الدارمی، ابن خزیمہ ، الصحیح لابن حبان، المستدرک للحاکم، الکبیر للطبرانی (رح)، السنن للبیہقی (رح)، السنن لسعید بروایت اوس بن اوس الثقفی)
مصنف نے یہی روایت " کتاب الصلاۃ " میں بیان کی تو وہاں شداد بن اوس راوی کا حوالہ دیا ہے۔ امام مزنی (رح) فرماتے ہیں یہ مصنف کا وہم ہے۔