22259- عن مسرة بن معبد اللخمي قال: "صلى بنا يزيد بن أبي كبشة العصر ثم انصرف إلينا بعد سلامه، فأعلمنا أنه صلى وراء مروان ابن الحكم فسجد بنا مثل هاتين السجدتين"، ثم قال مروان: "إني صليت وراء عثمان بن عفان فسجد بنا مثل هاتين السجدتين"، ثم قال عثمان: "إني كنت عند نبيكم صلى الله عليه وسلم فأتاه رجل" فقال: "يا نبي الله إني صليت فلم أدر أشفع أم وتر؟ ثم صليت فلم أدر أشفع أم وتر يقولها ثلاثا"، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: "إياي وأن يتلاعب بكم الشيطان في صلاتكم، فمن صلى منكم فلم يدر أشفع أم وتر فليسجد سجدتين فإنهما تمام صلاته". "حم قط في الأفراد، د ض وأبو نعيم في المعرفة. – وقال: "تفرد به سوار بن عمارة الرملي عن مسرة. وفي المغنى: مسرة بن معبد اللخمي له مناكير عن يزيد بن أبي كبشة". وفي الميزان: قال "حب": "لا يحتج به". وقال أبو حاتم: "ما به بأس".
22259 ۔۔۔ مسرۃ بن معبد لخمی کہتے ہیں کہ یزید بن ابی کبثہ نے ایک مرتبہ ہمیں عصر کی نماز پڑھائی پھر سلام پھیرنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں بتایا کہ انھوں نے مروان بن حکم کے پیچھے نماز پڑھی اور انھوں نے بھی اسی طرح دو سجدے کیے تھے ، پھر مروان نے کہا تھا کہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تھی اور انھوں نے بھی اسی طرح دو سجدے کئے تھے پھر مروان نے کہا : میں نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تھی اور انھوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے ۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے فرمایا : میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : یا نبی اللہ ! میں نے نماز پڑھی ہے اور مجھے علم نہیں آیا کہ میں نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین ، میں نے پھر نماز پڑھی مجھے پتہ نہیں کہ دو رکعتیں ہیں یاتین ، چنانچہ اس آدمی نے تین بار اسی طرح بیان کیا چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ اس سے بچا کرو کہ نماز میں شیطان تم سے کھیلا کرے لہٰذا تم میں سے جو آدمی نماز پڑھے اور اسے یاد نہ رہے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو اسے چاہیے کہ وہ دو سجدے کرے بلاشبہ اس کی نماز مکمل ہوجائے گی ۔ (احمد بن حنبل ، دارقطنی فی الافراد ، ابو داؤد ، ضیاء المقدسی ، وابو نعیم فی المعرفعۃ) کلام : ۔۔۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ اس حدیث میں سوار بن عمارہ رم کی مسرہ سے روایت کرنے میں متفرد ہیں۔ مغنی میں ہے کہ سمرہ بن معد لخمی منکر روایات نقل کرتا تھا ۔ میزان میں ہے ابن حبان کہتے ہیں کہ اس حدیث سے حجت نہیں پکڑے جائے گی ، جب کہ ابو حاتم کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ پہلی دو رکعت میں قرات بھول جائے :