22265- "مسند رافع بن خديج" أقصرت الصلاة أم نسيت؟ فقال: "ما قصرت الصلاة وما نسيت، ثم أقبل على أبي بكر وعمر" فقال: ما يقول ذو اليدين؟ فقالا: صدق يا رسول الله، فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم وثاب الناس فصلى ركعتين، ثم سلم ثم سجد سجدتي السهو. "حم طب عن ذي اليدين".
22265 ۔۔۔ ” مسند رافع بن خدیج “ روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں بھول گئے ایک صحابی (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے یا آپ سے بھول ہوگئی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز میں کمی ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھول راہوں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ ان دونوں حضرت نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! ذوالیدین نے سچ کہا ہے ، چنانچہ رسول اللہ واپس لوٹ آئے اور لوگ بھی جمع ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے۔ (احمد بن حنبل و طبرانی ، عن ذی الیدین و بخاری بتغیر ما)