22268- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم في ركعتين ثم انصرف فأدركه ذو الشمالين، فقال له: "يا رسول الله أنقصت الصلاة أم نسيت"؟ قال: "لم تنقص الصلاة ولم أنس"، قال: "بلى والذي بعثك بالحق فقال النبي صلى الله عليه وسلم "أصدق ذو اليدين"؟ قال: "نعم يا رسول الله فصلى بالناس ركعتين". "عب ش".
22268 ۔۔۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کر نماز ختم کردی ۔ اتنے میں ایک صحابی (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جنھیں ذوشمالین کیا جاتا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے یا پھر آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا نماز میں کمی نہیں ہوئی اور نہ ہی مجھ سے بھول ہوئی عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے کچھ تو ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا : کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اثبات میں جواب دیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں ۔