22293- عن ربيعة بن عبد الله قال: "قرأ عمر بن الخطاب يوم الجمعة على المنبر سورة {النَّحْلِ} حتى إذا أتى السجدة نزل فسجد، وسجد الناس معه حتى إذا كان الجمعة القابلة قرأها حتى إذا جاء السجدة قال: "أيها الناس إنا نمر بالسجدة فمن سجد، فقد أصاب وأحسن، ومن لم يسجد فلا إثم عليه" قال: "ولم يسجد عمر". "عب وابن خزيمة ق".
22293 ۔۔۔ ربیعہ بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جمعہ کے دن سورت نحل منبر پر تلاوت کی حتی کہ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے نیچے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا دوسرے جمعہ پھر وہی سورت تلاوت کی اور جب آیت سجدہ پڑھی تو فرمایا : اے لوگو ہم آیت سجدہ پڑھ کر آگے بڑھ چکے ہیں۔ لہٰذا جس نے سجدہ کیا اس نے درست اور اچھا کیا اور جس نے سجدہ نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے بھی سجدہ نہ کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق ، وابن خزیمہ و بیہقی)