22310- عن الحسن أن أبا موسى الأشعري رأى كأنه يكتب في منامه {ص} فلما انتهى إلى السجدة بدر القلم من يده فسجد، وبدرت الدواة، ولم يبق في البيت شيء إلا سجد معه فكل من يسجد معه يقول: اللهم اغفر بها ذنبا، واحطط بها وزرا، وأعظم بها أجرا، قال أبو موسى: فغدوت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فقال: "يا أبا موسى سجدة سجد بها نبي كانت عندها توبة فسجدت كما سجد وترقبت كما ترقب". "كر".
22310 ۔۔۔ حسن بصری (رح) کی روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے خواب میں دیکھا کہ وہ ” سورت ص “ لکھ رہے ہیں لکھتے لکھتے جب آیت سجدہ پر پہنچے تو قلم کو ہاتھ سے چھوڑ کر سجدہ کیا ، اور ان کے ساتھ ساتھ قلم دوات اور گھر میں موجود ہر چیز نے سجدہ کیا اور ہر چیز کہہ رہی تھی : ” اللہم اغفربھا ذنبا واحطط بھا وزرا و اعظم بھا اجرا “۔ ترجمہ : ۔۔۔ یا اللہ اس سجدہ کے ذریعے گناہ معاف فرما اور بوجھ کو ہلکا کر اور اجر وثواب کو بڑھا دے ۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) کا کہنا ہے کہ میں صبح کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں سارا ماجرا سنایا : اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو موسیٰ ! ایک سجدہ ہے جسے ایک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کیا ہے اور اس سے ان کی توبہ ہوئی میں بھی یہ سجدہ کرتا ہوں جیسے اس نے کیا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)