22341 عن عروة أن عمر بن الخطاب كان يعلم الناس التشهد في الصلاة وهو يخطب الناس على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول : إذا تشهد أحدكم فليقل : بسم الله خير الاسماء التحيات الزاكيات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله قال عمر : ابدأوا بأنفسكم بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلموا على عباد الله الصالحين.
(هق).
22341 ۔۔۔ عروہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو تشہد سکھایا کرتے تھے اور آپ (رض) منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے تھے چنانچہ فرمایا : جب تم تشہد پڑھنا چاہو تو یوں پڑھا کرو ۔ بسم اللہ خیر الاسماء التحیات للہ الزاکیات الصلوات للہ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ للہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو خیر الاسماء ہے تمام تر عمدہ تعریفیں بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی تم پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ ہمارے اوپر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ تبارک وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “۔ س کے بعد سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اپنے آپ سے ابتداء کرو اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام بھیجو۔ (رواہ البیہقی)