hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 22393

.

كنز العمال

22393
Kanz al-Ummal
22393- عن عائشة كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح الصلاة بالتكبير والقراءة بالحمد لله رب العالمين، وكان إذا ركع لم يشخص رأسه ولم يصوبه ولكن بين ذلك، وكان إذا رفع رأسه من الركوع لم يسجد حتى يستوي قائما وكان إذا رفع رأسه من السجدة لم يسجد حتى يستوي جالسا، وكان يقول في كل ركعتين: التحية، وكان يفترش رجله اليسرى وينصب رجله اليمنى، وكان ينهي عن عقبة الشيطان، وينهى أن يفترش الرجل ذراعيه افتراش السبع، وكان يختم الصلاة بالتسليم. "عب ش م د".
22393 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) عنہاـ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز تکبیر سے اور قرات ” الحمد للہ رب العالمین “۔ سے شروع کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک نہ تو (بہت زیادہ) بلند کرتے تھے اور نہ (بہت زیادہ) پست بلکہ درمیان درمیان میں رکھتے تھے (یعنی پیٹ اور گردن برابر رکھتے تھے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بغیر سیدھا کھڑے ہوئے سجدہ میں نہ جاتے تھے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بغیر سیدھابیٹھے ہوئے دوسرے سجدہ میں نہ جاتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے (اور (بیٹھنے کے لئے) اپنا بایاں پیر بچھاتے اور دایاں پیر کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے تھے اور مرد کو دونوں ہاتھ سجدہ میں اس طرح بچھانے سے منع کرتے تھے جس طرح درندے بچھا لیتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو سلام پر ختم کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ ، ومسلم وابوداؤد)