22422- عن زيد بن أسلم قال: "عطس رجل في الصلاة فقال له أعرابي إلى جنبه: رحمك الله،" قال الأعرابي: "فنظر إلي القوم،" فقلت: "واثكلاه" مالهم ينظرون إلي؟ فضربوا بأكفهم على أفخاذهم، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته، دعاني فقال الأعرابي: "بأبي هو وأمي ما رأيت معلما قط خيرا منه ما كهرني ولا شتمني فقال: "إن الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو تسبيح وتكبير وتهليل وقراءة القرآن."عب"
22422 ۔۔۔ زہد بن سلم روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نماز میں چھینک ماری اس کے پہلو میں ایک اعرابی (دیہاتی) کھڑا تھا کہنے لگا : ” رحمک اللہ “۔ (اللہ تجھ پر رحم کرے) اعرابی کہتا ہے لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا : میں نے کہا تعجب ہے یہ لوگ مجھے کیوں گھور رہے ہیں ؟ اس پر انھوں نے اپنی ہتھیلیاں رانوں پر ماریں چنانچہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو مجھے اپنے پاس بلایا : میرے ماں اور باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان جائیں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہتر معلم کوئی نہیں دیکھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے برا بھلا کہا بلکہ ارشاد فرمایا : نماز میں کلام کرنا مناسب نہیں چونکہ نماز تو تسبیح ، تکبیر ، تہلیل اور قرات قرآن کا نام ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)