22431- "مسند خالد بن الوليد" عن أبي عبد الله الأشعري قال: "نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل يصلي ولا يتم ركوعه وينقر في سجوده فأمره أن يتم ركوعه" وقال: "لو مات هذا على حاله هذه مات على غير ملة محمد صلى الله عليه وسلم" ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مثل الذي لا يتم ركوعه وينقر في سجوده مثل الجائع يأكل التمرة والتمرتين لا يغنيان عنه شيئا" فقيل لأبي عبد الله: من حدثك بهذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " قال: أمراء الأجناد: "خالد بن الوليد، وعمرو بن العاص، ويزيد بن أبي سفيان، وشرحبيل ابن حسنة، كل هؤلاء سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم". "خ في تاريخه ع وابن خزيمة وابن منده طب كر".
22431 ۔۔۔”۔ مسند خالد بن ولید “ ابو عبداللہ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا اور وہ پوری طرح نہ رکوع کرتا تھا اور سجدے میں بھی کوے کی سی ٹھونکیں مار رہا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کو اطمینان سے رکوع کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : اگر یہ آدمی اسی حالت پر مرگیا تو اس کی موت ملت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نہیں ہوگی پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو آدمی اہتمام کے ساتھ رکوع نہیں کرتا اور سجدہ میں بھی کوے کی سی ٹھونکیں مار لیتا ہے اس کی مثال بھوکے کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھا لیتا ہے جو اسے بھوک سے بےنیاز نہیں کرتیں ابو عبداللہ سے کہا گیا کہ تمہیں یہ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کس نے سنائی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ : مجھے یہ حدیث لشکروں کے سپہ سالاروں نے سنائی ہے جن میں حضرت خالد بن ولید (رض) عمرو بن العاص (رض) یزید بن ابی سفیان (رض) شرجیل بن حسنہ (رض) شامل ہیں۔ ان سب حضرات نے یہ حدیث نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھی تھی ۔ (بخاری فی تاریخہ وابو یعلی وابن خزیمہ وابن مندہ و طبرانی ابن عساکر)