22469- عن وبرة قال: "رأى عمر تميما الداري يصلي بعد العصر فضربه بالدرة،" فقال تميم: "لم يا عمر تضربني على صلاة صليتها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " فقال عمر: "يا تميم ليس كل الناس يعلم ما تعلم". "الحارث ع".
22470 ۔۔۔ عروہ بن زبیر (رح) کی روایت ہے کہ مجھے تمیم داری (رض) نے بتایا مجھے خبردی گئی ہے کہ تمیم داری (رض) نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں حالانکہ حضرت عمر (رض) قبل ازیں اس نماز سے منع کرچکے تھے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے انھیں درے کے ساتھ مارا تمیم (رض) نے نماز ہی میں بیٹھنے کا ارشاد کیا عمر (رض) بیٹھ گئے اور جب تمیم (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو کہا : اے عمر ! آپ نے مجھے کیوں مارا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا چان کہ تم نے عصر کے بعد دو رکعات پڑھی ہیں حالانکہ میں ان سے منع کرچکا ہوں تمیم (رض) نے کہا : میں یہ دو رکعتیں آپ سے بہتر ہستی یعنی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھ چکا ہوں حضرت عمر (رض) نے فرمایا تمہارے مجھے خوف نہیں ہے لیکن تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو (تمہیں دیکھ کر) عصر اور مغرب کے درمیان اسی طرح نماز پڑھیں گے جس طرح ظہر اور عصر کے درمیان پڑھتے ہیں (الطبرانی فی الاوسط)