22476- عن ابن عمر أن عمر قال: "لا آخذ على أحد يصلي الليل والنهار ما لم يصل عند غروب الشمس وعند طلوعها غير أني أصلي كما رأيت أصحابي يصلون". "ابن منده في التاسع من حديثه".
22477 ۔۔۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! رات کا کون سا حصہ افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر رات کا وقت افضل وقت ہے۔ پھر فجر تک نماز مقبول ہوتی ہے پھر فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز جائز نہیں ۔ پھر عصر تک نماز مقبول ہے (سوائے زوال کے وقت کے) پھر عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز جائز نہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! رات کو نماز کیسے پڑھی جائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جائے میں نے عرض کیا : دن کو کیسے نماز پڑھی جائے ۔ ارشاد فرمایا : دن کو چار چار رکعت کر کے نماز پڑھی جائے پھر فرمایا کہ : جو نماز پڑھتا ہے اس کے لیے ایک قیراط ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور قیراط کی مقدار احد پہاڑ کے برابر ہے۔ آدمی جب وضو کے لیے تیاری کرتا ہے اور ہاتھوں کو دھوتا ہے اس کے گناہ ہاتھوں سے خارج ہوجاتے ہیں پھر جب کلی اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے گناہ ناک کے بانسے سے خارج ہوجاتے ہیں پھر جب چہرہ دھوتا ہے تو گناہ اس کے چہرے کانوں اور آنکھوں سے خارج ہوجاتے ہیں جب سر کا مسح کرتا ہے وت اس کے گناہ سر کے راستے سے نکل جاتے ہیں۔ جب پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ پاؤں کی طرف سے نکل جاتے ہیں اور پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوا ہے جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق وسندہ حسن)