22507- عن ابن مسعود قال: "إنكم في زمان قليل خطباؤه، كثير علماؤه، يطيلون الصلاة، ويقصرون الخطبة، وإنه سيأتي عليكم زمان كثير خطباؤه، قليل علماؤه يطيلون الخطبة، ويؤخرون الصلاة حتى يقال: هذا شرق الموتى، قيل: وما شرق الموتى؟ " قال: "إذا اصفرت الشمس جدا فمن أدرك ذلك فليصل الصلاة لوقتها، فإن احتبس، فليصل معهم وليجعل صلاته وحده الفريضة، وصلاته معهم تطوعا". "عب".
22507 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : بلاشبہ تمہارے اس زمانہ میں خطباء قلیل ہیں اور علماء کثیر ہیں جو نمازیں طویل (لمبی) پڑھتے ہیں اور مختصر خطبے دیتے ہیں جبکہ عنقریب تمہارے اوپر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں خطباء کثیر ہوں گے اور علماء قلیل ہوں گے اور وہ خطباء لمبی لمبی تقریریں کریں گے نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے حتی کہ کہا جانے لگے گا کہ یہ تو شرف الموتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ شرف الموتی کیا چیز ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : جب سورج بہت زیادہ زردی مائل ہوجاتے اسے شرف الموتی کہتے ہیں لہٰذا تم میں سے جو بھی اس زمانہ کو پائے وہ وقت پر نماز پڑھے اور جو جبرا نماز پڑھنے سے روک دیا جائے تو وہ انہی لوگوں کے ساتھ پڑھ لے اور اپنی پڑھی ہوئی نماز کو فرض شمار کرے اور ان (امراء حکمرانوں) کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفل شمار کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق)