hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 22566

.

كنز العمال

22566
Kanz al-Ummal
22566- عن غضيف قال: "أتيت عمر بن الخطاب فقلت له: إنا نخرج في الأبنية كل عام ولي بناء فيه صغير، فإن صليت فيه كانت المرأة بحذائي، وإن خرجت قررت" قال: "اقطع بينكما بثوب ثم صل كيف شئت،" قال: "وكتب إليه عامله بالشام؛ إن لنا جيرانا من السامرة فهم يقرأون بعض التوراة" أو قال: "بعض الإنجيل ولا يؤمنون بالبعث فماذا يرى أمير المؤمنين في ذبائحهم فكتب إليه، إن كانوا يسبتون ويقرأون بعض التوراة أو بعض الإنجيل فذبائحهم كذبائح أهل الكتاب". "عب ومسدد".
22566 ۔۔۔ غضیف کہتے ہیں ایک مرتبہ میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : ہم لوگ اپنے گھروں سے پورا سال باہر ہی رہتے ہیں چنانچہ میرا چھوٹا سا گھر ہے اگر میں نماز پڑھتا ہوں تو میری بیوی میرے بالکل مقابل میں آجاتی ہے (یعنی ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے) اور اگر میں باہر اور اگر میں باہر نکل جاؤں تو سردی سے ٹھٹھر جاتا ہوں ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : تم اپنے درمیان کپڑا لٹکا لیا کرو اور پھر جیسے چاہے نماز پڑھو ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی طرف ملک شام سے آپ (رض) کے ایک گورنر نے خط لکھا کہ مقام سامرہ میں ہمارے کچھ پڑوسی ہیں وہ توراۃ کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں۔ (یا کہا کہ انجیل کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں) لیکن مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان نہیں رکھتے اے امیر المؤمنین ! لہٰذا ان کے ذبیحوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جواب لکھ بھیجا کہ اگر یہ لوگ ہفتے کے دن کا احترام کرتے ہیں اور توراۃ یا انجیل کا کچھ حصے پڑھتے ہیں تو ان کے ذبیحوں کا حکم اہل کتاب کے ذبیحوں کی طرح ہے۔ (رواہ عبدالرزاق ومسدد)