22581- عن أبي ثعلبة بينا النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بأصحابه بطريق مكة مر رجل يطرد شولا 1 له فأشار إليه النبي صلى الله عليه وسلم فلم يفطن فصرخ به عمر فقال: "يا صاحب الشول رد إبلك، فردها، فلما صلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: من المتكلم؟ " قالوا: "عمر،" قال: "مالك فقها يا ابن الخطاب". "عبد الرزاق بن عبد الرحمن بن يزيد بن أسلم عن أبيه مرسلا".
22581 ۔۔۔ حضرت ابو ثعلبہ (رض) کی روایت ہے ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو مکہ جاتے ہوئے راستے میں نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی اپنے اونٹوں کو ہانکتا ہوا آیا (قریب تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گزر جاتا) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اونٹوں کو واپس کر لیکن وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اشارہ کو نہ سمجھ سکا اتنے میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے زور سے کہا : اے اونٹوں والے ! اپنے اونٹوں کو واپس کر چنانچہ اس آدمی نے اونٹوں کو واپس کیا جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : یہ کلام کس نے کیا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : عمر (رض) نے اپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن خطاب ! تیری فقاہت کے کیا کہنے ! ۔ (رواہ عبدالرزاق، بن عبدالرحمن بن یزید بن اسلم عن ابیہ مرسلا)