22633- عن علي قال: "دخل علقمة بن علاثة على النبي صلى الله عليه وسلم فدعا له برأس، وجعل يأكل معه، فجاء بلال فدعا إلى الصلاة فلم يجبه، فرجع فمكث في المسجد ما شاء،" ثم رجع فقال: "الصلاة يا رسول الله قد والله أصبحت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رحم الله بلالا لولا بلال لرجونا أن يؤخر لنا ما بيننا وبين طلوع الشمس،" فقال علي: "لولا أن بلالا حلف لأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يقول له جبريل: ارفع يدك". "البزار وضعف".
22633 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ علقمہ بن ملانہ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے سری منگوائی اور ان کے ساتھ کھانے بیٹھ گئے اتنے میں بلال (رض) آئے اور نماز کا کہا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کچھ جواب نہ دیا ۔ بلال مسجد میں واپس لوٹ گئے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے ۔ بلال پھر آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوچکا ہے بخدا صبح ہوچکی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بلال پر رحم فرمائے اگر بلال نہ ہوتے تو ہم امید ظاہر کرتے کہ نماز طلوع شمس تک موخر کردی جائے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : بالفرض اگر بلال (رض) قسم نہ اٹھاتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانے میں برابر مشغول رہتے اور جبرائیل آکر انھیں کہتے کہ اپنا ہاتھ اٹھالیجئے ۔ (رواہ البزار) کلام : ۔۔۔ بزار نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔