22635- عن عمار بن ياسر قال: "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فسلمت عليه فرد علي السلام. "ش: ورواه ابن جرير في تهذيبه بلفظ: فأومأ بيده".
22635 ۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سلام کا جواب دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، ورواہ ابن جریر ، فی تھذیہ بلفظ فا وما بیدہ) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا ۔ فائدہ : ۔۔۔ نماز میں سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا ایک طرح کا کلام ہے اور نماز میں کلام ممنوع ہے خواہ جس طرح سے بھی ہو حدیث میں جو اشارے سے سلام کے جواب دینے کے بارے میں آیا ہے یا تو نفل نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیا یا یہ عمل منسوخ ہے۔