22681- "مسند جندب بن عبد الله" سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سفرا فأتاه قوم فقالوا: "يا رسول الله سهونا عن الصلاة فلم نصل حتى طلعت الشمس،" فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "توضأوا وصلوا" ثم قال: "إن هذا ليس بالسهو إن هذا من الشيطان، فإذا أخذ أحدكم مضجعه من الليل فليقل: بسم الله أعوذ بالله من الشيطان الرجيم". "طب".
22680 ۔۔۔ ” مسند بلال (رض) “۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں تھے چنانچہ ایک جگہ رات ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے لیے رات کا کون انتظار کرے گا تاکہ ہمیں نماز فجر کے لیے جگا دے ؟ بلال (رض) نے کہا یہ کام میں کروں گا چنانچہ بلال (رض) مطلع آفتاب کی طرف منہ کرکے لیٹ گئے لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ایسی گہری نیند سوئے کہ انھیں سورج کی تپش نے جگایا پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اٹھے اور اپنی سواریوں کو کھینچنے لگے پھر سب نے وضو کیا اور بلال (رض) نے اذان دی اور سب نے فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر دو فرض پڑھے ۔ (رواہ الامام احمد بن حنبل (رح) فی مسندہ والطحاوی والطبرانی)