22687- "مسند مالك" عن يزيد بن أبي مريم عن أبيه قال: "نام رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجه الصبح، فلم يستيقظ حتى طلعت الشمس فاستيقظ، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤذن فأذن، ثم صلى ركعتين، ثم أمره فأقام فصلى الفجر". "البغوي كر. وقال البغوي: "ولا أعلم روى ابن أبي مريم غير ثلاثة أحاديث".
22686 ۔۔۔ ” ابوقتادہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ رات کو ہمارے ساتھ آرام فرما لیں ؟ حکم ہوا مجھے خوف ہے کہ تم سوتے رہو گے اور نماز فوت ہوجائے گی (سو اگر یہی بات ہے تو پھر) ہمیں جگائے گا کون بلال (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں جگاؤں گا ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سمیت رات کے پچھلے پہر میں آرام کیا اور لیٹ گئے جب کہ بلال (رض) نے اپنے کجاوہ کے ساتھ ٹیک لگالی اور ان پر نیند کا سخت غلبہ ہوا ، بالآخر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے دراں حالیکہ سورج طلوع ہوچکا تھا ، ارشاد فرمایا : اے بلال تمہاری بات کہاں ہوئی ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! قسم اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برحق مبعوث کیا ہے مجھ پر نیند کا ایسا غلبہ کبھی نہیں ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جب چاہا تمہاری روحوں کو قبض کرلیا اور جب چاہا تمہاری روحوں کو واپس لوٹا دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حکم دیا کہ اپنی اپنی حاجت سے فارغ ہو لو اور وضو کرو اتنے میں سورج بلند ہوچکا تھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو فجر کی نماز پڑھائی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، وابو الشیخ فی الاذان)