22735- عن سالم أن ابن عمر اشترى شيئا من رجل أحسبه ناقة فخرج ينظر إليها فقصر الصلاة وكان ذلك مسيرة يوم تام أو أربع برد "عب".
22735 ۔۔۔ سالم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے ایک آدمی سے کوئی چیز خریدی میرا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ خریدا تھا چنانچہ آپ (رض) اسے (اونٹ یا جو چیز بھی تھی) دیکھنے تشریف لے گئے اور نماز قصر پڑھی یہ پورے دن کی مسافت تھی یا چار برد کے بقدر فاصلہ تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ ایک برد سولہ فرسخ کے برابر ہوتا ہے ایک فرسخ تین میل کے برابر ، تو گویا چطار برد 48 (اڑتالیس) میل کے برابر فاصلہ ہوا، بالفاظ دیگر ایک برد تقریبا 12 (بارہ) میل کے برابر فاصلہ ہوتا ہے اور چار برد 48 میل ہوئے ، یہی وہ شرعی فاصلہ ہے جو نماز کی قصر کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور یہ 74 کلومیڑ کے برابر ہے۔ لہٰذا جو بھی 48 میل کا سفر کرے گا اس سفر کو شرعی سفر کہا جائے گا اور قصر کا حکم لاگو ہوگا گو کہ موٹر کار کے ذریعے ہو یا ہوائی جہاز کے ذریعے ۔